خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر
پِھر شام ہُوئی اور مُجھے کھانے لگا ڈر
مُدّت سے مئے ہَست چَکھی تک نہیں مَیں نے
اِک جامِ تَہی روز ہی کہتا ہے: مُجھے بَھر!
اَب دِل میں کِسی یاد کا پَر تَک نہیں مِلتا
وہ دِن بھی تھے مَوروں سے بَھرا رہتا تھا یہ تھر
ہر لَمحہ اُکھڑتے ہیں کبھی پاؤں، کبھی سانس
یہ وقت کی چوٹی ہے، اِسے کون کرے سَر!
اِک سُوکھے ہُوئے غَم کی مَہَک آتی ہے مُجھ کو
مَیں توڑ نہ پاؤں گا اُداسی کا گُلِ تَر
چَل! چَل! یہ زَرِ خواب سَمیٹ اور نِکل جا!
بازار نہیں ہے، یہ مِرا گھر ہے، مِرا گھر!
مَیں دیکھ رہا تھا یُونہی یادوں کی پَتنگیں
یَک لَخت کوئی ڈور پِھری میرے گَلے پر
مَیں سامنے آتا ہوں تو کہتا ہے یہ سَیلاب:
تُو راستہ روکے گا بے؟ چَل بھاگ! پَرے مَر!
اُس باغ میں سَو طرح کے گُل کھِل گئے ہوں گے
اچّھا! تو مَیں چلتا ہوں۔۔۔قَفَس؟۔۔۔ اوہ! ۔۔۔مِرے پَر۔۔
سعید شارق