سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کھینچتا جاتا ہے اپنی سمت ویرانہ مجھے

کھینچتا جاتا ہے اپنی سمت ویرانہ مجھے
کتنا مہنگا پڑ گیا صحرا نظر آنا مجھے!
جیسے یوں زینہ بہ زینہ اس میں جا اُتروں گا میں
کِس نظر سے دیکھتا رہتا ہے تہ خانہ مجھے
آئنے کے ساتھ پی لیتا ہوں چائے شام کو
اور کبھی یہ کُرسیاں دیتی ہیں ظہرانہ مجھے
میں بھی تو دیکھوں کہ آخر اِن دنوں کیسا ہوں میں!
جب کہیں تم کو دکھائی دوں تو بتلانا مجھے

سعید شارق