سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کوئی نہیں سو اکیلا اُڑان بھرتا ہوں

کوئی نہیں سو اکیلا اُڑان بھرتا ہوں
اور اپنے حصّے کا کُچھ آسمان بھرتا ہوں
یہ خالی ہوتی ہوئی آنکھیں خُوب جانتی ہیں
مَیں کس طرح شکمِ خواب دان بھرتا ہوں!
یہ دل کسی بھی طرح تُجھ سے بھر نہیں پاتا
یہ اور بات کہ روز اپنے کان بھرتا ہوں

سعید شارق