کیا کروں! اتنی مشقّت نہیں ہوتی مجھ سے!
بار بار اپنی مرمّت نہیں ہوتی مجھ سے
کون محروم کرے سلطنتِ دل سے تجھے!
یوں نہیں ہے کہ حکومت نہیں ہوتی مجھ سے
کھول بھی دے جو کبھی مصحفِ رُخ بادِ خیال
آیتِ لب کی تلاوت نہیں ہوتی مجھ سے
میں کہ مہمان ہوں اک بزمِ درُوں میں کب کا!
کسی تقریب میں شرکت نہیں ہوتی مجھ سے
جب سے ٹُوٹا ہے اُداسی کا کھلونا، شارق
جی بھی چاہے تو شرارت نہیں ہوتی مجھ سے
سعید شارق