سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

کیا شام تھی روح کے نگر میں!

کیا شام تھی روح کے نگر میں!
ہر زخم تھا حالتِ سفر میں
ویسے ہی مکیں، وہی خموشی!
کیا فرق ہے مجھ میں اور کھنڈر میں!
سینے میں کسی کی یاد، جیسے
مرتا ہُوا کوئی مور، تھر میں
آباد ہے ایک ایک آہٹ
کیا طرفہ مکاں ہیں سقف و دَر میں!
آتی رہی قہقہوں کی آواز
جس وقت کوئی نہیں تھا گھر میں

سعید شارق