کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!
اپنی دستک سے ٹُوٹ جاتا ہوں
کیا کروں! چیخ بھی نہیں سکتا
خامشی سے صدا چباتا ہوں
وقت جاتاہےآگےآگے؟جائے!
میں بھی کب پیچھے پیچھےآتا ہوں!
کون سا نام اور کیسا پتہ؟
کوئی پُوچھے تو سر کھجاتا ہوں
پیاس لگتی ہے راکھ ہونے کی
سو اسے آگ سے بُجھاتا ہوں
نیند کا خار جس قدر بھی چُبھے
خواب کا پُھول توڑ لاتا ہوں
دل کا تندور سرد کیسے ہو!
رنج کی لکڑیاں جلاتا ہوں
کتنا مشکل ہے زندگی کا سبق!
یاد کرتے ہی بُھول جاتا ہوں
کاسہء چشم کیوں نہیں بھرتا!
اب تو آواز بھی لگاتا ہوں
سعید شارق