مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے
اک گُزری ہوئی شام کھڑی ہے مِرے پیچھے
کب تھک کے گروں اور مِرے اُوپر سے گزر جائے!
اک راہگزر کب سے پڑی ہے مِرے پیچھے
وہ دِن بھی عبث لوٹ کے آیا مِری خاطر
یہ شب بھی یونہی خوار ہوئی ہے مِرے پیچھے
اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیں
ہر وقت یہ لگتا ہے، کوئی ہے مِرے پیچھے!
مَیں دشتِ بلا ہی سہی، ساحل تھا کسی کا
اک ناؤ کہیں ڈُوب گئی ہے مِرے پیچھے
کانوں میں یونہی اُنگلیاں ٹھونسے رہوں کب تک!
رَہ بُھولی ہوئی کوئی ہنسی ہے مِرے پیچھے
سعید شارق