سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

مَیں خلا ہوتا تھا، مجھ کو کیسی دُنیا کر دیا!

مَیں خلا ہوتا تھا، مجھ کو کیسی دُنیا کر دیا!
ذہن میں مکّہ بسایا، دِل مدینہ کر دیا
چل پڑِیں مدح و ثنائے مُصطفیٰ کی کشتیاں
کیسی بارش نے مجھے صحرا سے دریا کر دیا!
بادِ طیبہ نے جلا دی اِک نئی شمعِ یقیں
اور سیہ پڑتے ہوئے دِل میں اُجالا کر دیا
دیکھتا رہتا ہوں اندھے پن میں بھی کُچھ قافلے
دِید کی خواہش نے مُجھ کو کیسا بینا کر دیا!
سخت کھاری ہو گیا تھا چشمہءِہستی مِرا
عشق کی اِک بُوند نے اِس کو بھی میٹھا کر دیا!
ڈُھونڈ لائی میرے ٹُکڑوں کو مدینے کی ہَوا
اور مُجھ بکھرے ہوئے کو پِھر اکٹھا کر دیا

سعید شارق