میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
اک گزری ہوئی شام کھڑی ہے مرے پیچھے
کب تھک کے گروں اور مرے اوپر سے گزر جائے
اک راہ گزر کب سے پڑی ہے مرے پیچھے
وہ دن بھی عبث لوٹ کے آیا مری خاطر
یہ شب بھی یوںہی خار ہوئی ہے مرے پیچھے
اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیں
ہر وقت یہ لگتا ہے کوئی ہے مرے پیچھے
میں دشت بلا ہی سہی ساحل تھا کسی کا
اک ناؤ کہیں ڈوب گئی ہے مرے پیچھے
کانوں میں یوںہی انگلیاں ٹھونسے رہوں کب تک
رہ بھولی ہوئی کوئی ہنسی ہے مرے پیچھے
سعید شارق