سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!

میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!
وہ مسئلہ ہوں جو خود مجھ سے حَل نہیں ہوتا
عَجَب خزاں سے گُزَرتے ہیں میرے خواب کے پیڑ
کِسی کا سایہ اگر ہو تو پَھل نہیں ہوتا!
میں صُبح شام وہی دِن اُٹھائے پھِرتا ہوں
قَدم لَرزتے نہیں، ہاتھ شَل نہیں ہوتا
مِلا کے دیکھ لیے ہیں خُوشی کے آمیزے
یہ غَم کِسی بھی مُحَلِّل میں حَل نہیں ہوتا
کروں تو کیسے کروں طے یہ فاصلہ شَب کا!
بَہُت چَلا ہوں میں خوابوں کے بَل، نہیں ہوتا!
کوئی سَمَجھ سکے دِل کو تو کر سکے ترمیم
سو اس صَحیفے میں رَدّ و بَدَل نہیں ہوتا

سعید شارق