میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!
ویسے تو گھر ہوں آج مگر گھر نہیں ہوں میں
دل میں جزیرہ بھی ہے، خزانہ بھی، ناؤ بھی
یہ اور بات ہے کہ سمندر نہیں ہوں میں
ہے سامنا عجیب مساوات کا مجھے
تنہائی جمع یاد، برابر: نہیں ہوں میں
سہما ہُوا ہوں وقت کی مُٹّھی میں کِس لیے!
گوہر نہیں ہوں میں، کوئی کنکر نہیں ہوں میں
دستک پہ قُفل کھولنا چاہا تو یہ کُھلا
باہر کھڑا ہوں خواب سے، اندر نہیں ہوں میں
آرام کرتی رہتی ہے مجھ میں فسردگی
کہتا بھی ہوں کہ اُٹھ! کوئی بستر نہیں ہوں میں!
سعید شارق