میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے
میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے
کیسا دروازہ کُھلا اینٹیں اُکھڑ جانے سے!
ایک شب گم ہُوا آنکھوں سے کوئی خواب مِرا
اور پھر لاش مِلی سینے کے ویرانے سے
تری تنہائی گئی پھر مِری تنہائی گئی
کتنا نقصان ہُوا مجھ کو ترے آنے سے!
سعید شارق