نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو
کاش اس مرتبہ دیوار میں دیوار نہ ہو
وہی بے رنگ پرندے، وہی بے سمت اُڑان
بھاگتا پھرتا ہوں جس سے یہ وہی ڈار نہ ہو!
کوئی پتّھر نہ لڑھک آئے دہانے پہ کہیں!
یہ شبِ تار حقیقت میں سیہ غار نہ ہو!
گٹھڑیاں باندھوں تو رہ رہ کے خیال آتا ہے
جو سنبھالا ہے وہ سب کچھ کہیں بے کار نہ ہو!
توڑنا چاہوں اندھیرے کی فصیلیں لیکن
ساتھ دینے کے لیے روشنی تیّار نہ ہو
اک خزانہ تو چھپا رکھا تھا خود میں ، شارقؔ
کہیں یہ سانس کسی سانپ کی پھنکار نہ ہو!
سعید شارق