وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا
شیشہء خواب کہاں سارے کا سارا ٹُوٹا !
سوچتے سوچتے آنکھوں میں لگا سنگِ سرشک
دیکھتے دیکھتے اک اور نظارہ ٹُوٹا
خوفِ مسماری ہے کیا شے! کہ مٙیں الماری سے
ایک ہی بار گِرا اور دوبارہ ٹُوٹا
ضبط کی دھار بہت کُند تھی اور کرب گھنا
کاٹتے کاٹتے اس پیڑ کو آرا ٹُوٹا
اِس طرف بُوند گِری اُس کی سیہ پلکوں سے
اور اُدھر رات کی ٹہنی سے ستارہ ٹُوٹا
کتنی پھسلن تھی جدائی کی سڑک پر، شارق
روکتے روکتے گاڑی کو، اِشارہ ٹُوٹا
سعید شارق