سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا

پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا
آنکھ کھلی تو خشک ندی سے صحرا ہوتے دیکھا
جاتے جاتے اُن نظروں نے کیسی دستک دے دی!
پل بھر میں پختہ دروازہ بوڑھا ہوتے دیکھا
شک رہتا تھا مرنے والے کیسے جی اُٹھّیں گے؟
اور پھر اک دن تیری یاد کو زندہ ہوتے دیکھا
دنیا، جس کی شکل مجھے اک آنکھ نہیں بھاتی تھی
اپنی آنکھوں سے خود کو بھی اُس کا ہوتے دیکھا
دیواریں کب تھیں! پر ان کے رخنے بھرتے دیکھے
رنگ کہاں تھا! لیکن رفتہ رفتہ ہوتے، دیکھا
دونوں ہیں شاہد اس کی تصویریں ہی مجرم ہیں
مٙیں نے اور عینک نے مجھ کو اندھا ہوتے دیکھا
کب سوچا تھا، ویرانی بھی ہو گی وجہِ تشبیہ!
آخر اُس کو بالکل اپنے جیسا ہوتے دیکھا
اگلی بات بتا! یہ عادت کیسے چھوڑی جائے؟
ہاں ہاں! دیکھا! خود کو پھر افسردہ ہوتے، دیکھا!
جانے کب اور کیسے جل کر راکھ ہوا مٙیں، شارق
اتنا یاد ہے کچھ تِنکوں کو یکجا ہوتے دیکھا

سعید شارق