search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
سعید شارق
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے
کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا
صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری
ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا
کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!
تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی
آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!
صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک
سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!
کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!
اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گِری تھی لان میں
چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک
چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی
مَیں خلا ہوتا تھا، مجھ کو کیسی دُنیا کر دیا!
کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!
سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے
مَیں اپنے عَقَب میں ہوں، گلی ہے مِرے پیچھے
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے
گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر
کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے:
دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں
کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!
نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے
قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے
گرچہ کمرے میں اندھیرا تھا بہت
سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں
مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
روشن پہاڑیوں سے اُدھر، کوہِ تار میں
یہ شکستہ آئنہ توڑنا نہیں چاہتا
میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے
جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب
ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا
یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!
میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!
کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!
جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی
سیدہء کائنات حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نذر:
جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں
شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گری تھی لان میں
ہنسی کا فیصلہ یُوں کالعدم قرار دِیا
تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!
در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!
خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی
کوئی نہیں سو اکیلا اُڑان بھرتا ہوں
کھینچتا جاتا ہے اپنی سمت ویرانہ مجھے
اچانک آنکھ کُھلتی ہے
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے
بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!
کیا کروں! اتنی مشقّت نہیں ہوتی مجھ سے!
میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!
عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر
آہ کی ضرب سے کب قُفلِ فنا ٹُوٹتا ہے!
دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے
گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!
مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!
سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ
مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے
کس طرح کہہ دوں کہ اصلاً مَیں تھا!
نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو
اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر
بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے
جس باغ کا پودا ہے اُدھر کیوں نہیں لگتا؟
(حضرت عمارؓ بن یاسرؓ کی نذر)
سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے
ہم اپنے آپ کو جن کا غلام کہتے ہیں
اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
ہر مُسافر کا ہم سفر ہونا
بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے
پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا
وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا
دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی
بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟
نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے
بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے
کبھی خائف تھا فقط دَر مجھ سے
تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے
خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں
تکتا ہی رہ گیا مجھے، صیّاد، گھات پر
قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا
جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا
وہی زخم سا، وہی گرد سی، وہی داغ سے
گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے
کیا شام تھی روح کے نگر میں!
تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا
رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے
سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے
آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی
مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا
سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے
وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں
کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے
ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی
رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی
عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے