کلامِ شاعر
- 01 اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
- 02 اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
- 03 پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے
- 04 کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا
- 05 صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری
- 06 ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر
- 07 جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا
- 08 کیا جانے کتنا عرصہ لگے میری بیل میں!
- 09 تَکتی تھی وہ چَٹان مجھے ہی گھڑی گھڑی
- 10 آنکھوں میں جم گئے ہیں نشاں، کیسی بھاپ کے!
- 11 صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک
- 12 سینے میں اِک کتاب ہے کب سے کُھلی پڑی!
- 13 کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!
- 14 اٹنے لگی ہے سانس غبارِ ملال میں
- 15 منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
- 16 شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گِری تھی لان میں
- 17 چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک
- 18 چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی
- 19 مَیں خلا ہوتا تھا، مجھ کو کیسی دُنیا کر دیا!
- 20 کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!
- 21 سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے
- 22 مَیں اپنے عَقَب میں ہوں، گلی ہے مِرے پیچھے
- 23 مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
- 24 دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے
- 25 گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!
- 26 توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں
- 27 خُود کھِڑکیاں کُھلنے لگِیں، خُود بَند ہُوا دَر
- 28 کہنے لگا یہ، غارِ حرا، کوہِ طُور سے:
- 29 دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں
- 30 کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!
- 31 نکالنے کو،وہی روز و شب، دفینے سے
- 32 قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے
- 33 گرچہ کمرے میں اندھیرا تھا بہت
- 34 سبھی سمجھتے ہیں اب بھی اکڑ کے چلتا ہوں
- 35 مجھ میں جتنے بھی ترے شہر ہیں، برباد کروں!
- 36 راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
- 37 روشن پہاڑیوں سے اُدھر، کوہِ تار میں
- 38 یہ شکستہ آئنہ توڑنا نہیں چاہتا
- 39 میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے
- 40 جاڑے کی سرد سرد ہَوا میں ٹھٹھرتی شب
- 41 ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا
- 42 یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!
- 43 میں کب اُلجھتا نہیں، کب پَزَل نہیں ہوتا!
- 44 کیسا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں!
- 45 جو چیز جہاں جیسے دھری تھی وہیں چھوڑی
- 46 سیدہء کائنات حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نذر:
- 47 جس قدر بتلا رہا ہوں اتنی قیمت بھی نہیں
- 48 شام کی سرد سرد دُھوپ تھک کے گری تھی لان میں
- 49 ہنسی کا فیصلہ یُوں کالعدم قرار دِیا
- 50 تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!
- 51 در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!
- 52 خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی
- 53 کوئی نہیں سو اکیلا اُڑان بھرتا ہوں
- 54 کھینچتا جاتا ہے اپنی سمت ویرانہ مجھے
- 55 اچانک آنکھ کُھلتی ہے
- 56 رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے
- 57 بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!
- 58 کیا کروں! اتنی مشقّت نہیں ہوتی مجھ سے!
- 59 میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!
- 60 عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر
- 61 آہ کی ضرب سے کب قُفلِ فنا ٹُوٹتا ہے!
- 62 دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے
- 63 گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!
- 64 مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!
- 65 سالارِؓ سپہ بھی ہیں، وزیرِؓ شہِ عالمؐ
- 66 مَیں اپنے عقب میں ہوں ، گلی ہے مِرے پیچھے
- 67 کس طرح کہہ دوں کہ اصلاً مَیں تھا!
- 68 نیند ٹُوٹے تو کسی خواب کی تکرار نہ ہو
- 69 اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر
- 70 بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
- 71 کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے
- 72 جس باغ کا پودا ہے اُدھر کیوں نہیں لگتا؟
- 73 (حضرت عمارؓ بن یاسرؓ کی نذر)
- 74 سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے
- 75 ہم اپنے آپ کو جن کا غلام کہتے ہیں
- 76 اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
- 77 ہر مُسافر کا ہم سفر ہونا
- 78 بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے
- 79 پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا
- 80 وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا
- 81 دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی
- 82 بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟
- 83 نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے
- 84 بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے
- 85 کبھی خائف تھا فقط دَر مجھ سے
- 86 تیری آواز میں، تیری ہی ہنسی، ہنستی ہے
- 87 خود ہی پُھوٹا مرے اندر سے کوئی بیج کہیں
- 88 تکتا ہی رہ گیا مجھے، صیّاد، گھات پر
- 89 قطرہ قطرہ نمِ نادیدہ اُتر جانے دِیا
- 90 جلا ہُوا ہے نہ جانے کہاں چراغ اُس کا
- 91 وہی زخم سا، وہی گرد سی، وہی داغ سے
- 92 گھٹا بھی دھیرے دھیرے اپنے پَر پھیلا رہی ہے
- 93 کیا شام تھی روح کے نگر میں!
- 94 تری رگ رگ میں زہرِ غم اُترنا چاہیے تھا
- 95 رنج کی بپھری ہوئی لہروں سے لڑتا رہا مَیں
- 96 دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے
- 97 سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے
- 98 آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی
- 99 مِری شاخ شاخ تھی بے ثمر، سو وہ سنگ ہات میں رہ گیا
- 100 کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا
- 101 سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
- 102 میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
- 103 بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
- 104 وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
- 105 خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میں
- 106 نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے
- 107 دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
- 108 رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دئے
- 109 وقت ہی اتنا لگا شام کی مسماری میں
- 110 روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں
- 111 کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
- 112 اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
- 113 جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
- 114 دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے
- 115 ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی
- 116 رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
- 117 عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر
- 118 گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
- 119 کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
- 120 سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
- 121 دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی
- 122 عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے