قدم قدم پہ ترے ہجر کی چڑھائی ہے
صدا کا موڑ ہے اور خامشی کی کھائی ہے
عروسِ ہست! یہ پژ مُردہ پھول تیرے لیے
مِری طرف سے یہی تیری مُنہ دِکھائی ہے
عجب نہیں وہ دِیا تیرگی سُنانے لگے
تمام عُمر جسے روشنی پڑھائی ہے
زباں کو ذائقہ ہاتھوں کو لمس چاہیے تھا
نِگاہ شاخ سے وہ سیب توڑ لائی ہے
بھڑکتی ہی نہیں افسردگی کی آگ کبھی
یہ تیرا دُکھ ہے کہ گیلی دِیا سلائی ہے!
بدل نہ دے وہ کہیں مجھ کو رات میں، شارِق
مِری گرفت میں جس شام کی کلائی ہے
سعید شارق