سرشک و خُوں کے سوا کہیں کچھ رقم نہیں ہے
جو روشنائی طلب ہو یہ وہ قلم نہیں ہے
ہر ایک آنسو پہ کیوں نہ الحمدللّٰہ* بولوں؟
تو کیا یہ توفیقِ گریہ رب کا کرم نہیں ہے؟
کھنچا چلا جا رہا ہوں میں کربلا کی جانب
سوائے ابرِ فغاں کوئی ہم قدم نہیں ہے
نہ جانے کتنا وسیع ہے آسمانِ مدحت!
پرندِ فن میں اب اور اُڑنے کا دم نہیں ہے
ہے کون سا صفحہ، خشک ہوں جس کے گال اب تک!
ہے کون سا لفظ جس کی آنکھوں میں نم نہیں ہے!
حجاب و حزم و ادب کو ملحوظ رکھیے صاحب!
حسینؑ کا غم ہے یہ کوئی عام غم نہیں ہے
شہید زندہ ہیں، جانتا بھی ہوں مانتا بھی
مگر جو ان پر ستم ہُوا وہ بھی کم نہیں ہے
جو دل میں لہرا رہا ہے پرچم، وہ کون دیکھے!
بھلے مرے گھر کی چھت پہ تیرا ؓ علم نہیں ہے
سعید شارق