سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا

ترانہ، دل پہ ہے کندہ، ہمارا
بناتی ہیں رگیں، نقشہ ہمارا
سفید اور سبز لگتی ہے ہر اک شے
نظر پر نقش ہے جھنڈا ہمارا
سمندر ظرف ہیں ندیاں ہماری
ہے دریا دل ہر اک چشمہ ہمارا
ہمارے خواب اس میں تیرتے ہیں
فقط صحرا نہیں صحرا ہمارا
چٹانیں کانپتی ہیں ڈر کے مارے
حریفِ سنگ ہے شیشہ ہمارا
اسے مٹّی نہ کر دیں ہم تو کہنا!
وہ روکے تو سہی رستہ ہمارا!
اُڑا لے جائیں گے ہم ساتھ اپنے
اگر کُھلتا نہیں پنجرہ ہمارا
ہمیں سونے سے بڑھ کر قیمتی ہے
بھلے مٹّی کا ہو سکّہ ہمارا
انہیں نوکِ ہلال اب چُبھ رہی ہے*
کھٹکتا تھا جنہیں تارہ ہمارا
سنا ہے:اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا
سو وقت آنے کو ہے اچّھا ہمارا

سعید شارق