سعید شارق

شاعر

تعارف شاعری

یہ شکستہ آئنہ توڑنا نہیں چاہتا

یہ شکستہ آئنہ توڑنا نہیں چاہتا
مِری کرچیاں کوئی جوڑنا نہیں چاہتا!
مجھے علم ہے وہ پتنگ کٹ بھی چکی، مگر
ابھی تک مَیں ڈور کو چھوڑنا نہیں چاہتا
نہیں چاہتا کہ وہ ناؤ جائے کسی طرف
اُسے اپنی سمت بھی موڑنا نہیں چاہتا
نہیں یاد، تیری کھنک ہے یا کسی اور کی!
مَیں یہ گلّک اس لیے پھوڑنا نہیں چاہتا
مرا دل ہے دہر کے اصطبل کا عجب فرَس
جو کسی بھی ریس میں دوڑنا نہیں چاہتا
کہیں رہ نہ جائے وہ تا ابد مرے خواب میں!
مجھے اس لیے وہ جھنجھوڑنا نہیں چاہتا
یونہی تارِ ضبط پہ ڈال رکھّوں گا عمر بھر
مَیں یہ غم کی شال نچوڑنا نہیں چاہتا
مجھے نوچ نوچ کے تھک گیا ہے یہ گُرگِ مرگ
سو ابھی مزید بھنبھوڑنا نہیں چاہتا

سعید شارق