یہ شیر لقمہء گُرگِ فنا نہ بن جائے!
کہیں غزہ بھی اسی کی غذا نہ بن جائے!
بدل رہے ہیں خدوخال میرے لفظوں کے
سو ڈر رہا ہوں دُعا، بددُعا نہ بن جائے
جلا نہ دے کہیں تیزاب ساری دنیا کو!
یہ دُودِ آہ برستی گھٹا نہ بن جائے!
عقاب یُوں بھی تو اپنی شناخت بُھول چکا
سو ڈرتے ڈرتے کہیں فاختہ نہ بن جائے!
شہید ہونے لگے سب کے اکبر و اصغر!
یہ کائنات کہیں کربلا نہ بن جائے!
جُھلس نہ جائیں کہیں شعلہء نوا سے ہم!
یہ سرد چُپ کہیں جلتی صدا نہ بن جائے!
لگام ڈال دے نمرودِ نو کو بھی مالک!
یہ بے لحاظ کسی دن خُدا نہ بن جائے!
سعید شارق