ساحر بھوپالی اردو غزل کے اُن شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگیِ بیان اور گہرے جذبے کے امتزاج سے اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔ ان کا تعلق تاریخی اور ادبی شہر بھوپال سے رہا، جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں دکن اور شمالی ہند کی شعری روایت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ اگرچہ ان کی زندگی کے حالاتِ حاضرہ اور ذاتی کوائف پر مفصل اور مستند معلومات کم دستیاب ہیں، تاہم ان کا تخلیقی وجود ان کی شاعری کے ذریعے پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتا ہے
ساحر بھوپالی بنیادی طور پر ایک غزل گو شاعر تھے۔ ان کی شاعری کے مرکزی موضوعات عشق، فراق، زندگی کی بے ثباتی، انسانی جذبات اور داخلی کرب ہیں۔ ان کے اشعار میں روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ احساس کی تازگی بھی پائی جاتی ہے، جو قاری کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا انداز نہ تو پیچیدہ ہے اور نہ ہی تصنع سے بھرپور، بلکہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنا ان کی شاعرانہ خصوصیت ہے۔
اگرچہ ساحر بھوپالی کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی مکمل سوانح حیات محفوظ نہ رہ سکی، لیکن ان کی شاعری نے انہیں اردو ادب میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ آج بھی ان کی غزلیں مختلف ادبی ویب سائٹس، مشاعروں اور شعری محفلوں میں پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔ یہی کسی شاعر کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ اس کا کلام وقت کی گرد سے محفوظ رہے، اور اس اعتبار سے ساحر بھوپالی اردو غزل کی روایت میں ایک معتبر اور قابلِ ذکر نام ہیں۔