عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح
کہ اختیار بھی میرا ہے بے کسی کی طرح
خدا کے واسطے مت توڑ آسرا دل کا
کہ میں نے ڈالی ہے مر مر کے زندگی کی طرح
وہ جس کو کھلنے سے پہلے ہی توڑ لے کوئی
تری مثال ہے اے دوست اس کلی کی طرح
تمہاری کون ادا پر کروں یقین کہ تم
کبھی کسی کی طرح ہو کبھی کسی کی طرح
نگاہ ناز میں اس بخشش و کرم کے نثار
کہ تو نے ہوش بھی بخشا تو بے خودی کی طرح
نہ کیوں ہو ناز تباہیٔ دل پہ اے ساحرؔ
کہ مجھ کو ڈالنا ہے مٹ کے زندگی کی طرح
ساحر بھوپالی