ہے برابر اسے ملا نہ ملا
جس کو جینے کا حوصلہ نہ ملا
آہیں گھٹ گھٹ کے بن گئیں آنسو
جب نکلنے کو راستہ نہ ملا
یوں تو جینے کو جی رہے ہیں ہم
زندگی کا مگر مزہ نہ ملا
خون ہو کر بہا پھر آنکھوں سے
دل کو جب کوئی آسرا نہ ملا
ان کو ڈھونڈوں تو کس امید پہ اب
مجھ کو اپنا ہی جب پتہ نہ ملا
زندگی سے امید کیا رکھوں
موت کا بھی تو آسرا نہ ملا
بوالہوس نے کئے ہزار جتن
پھر بھی قسمت سے کچھ سوا نہ ملا
کون مشکل تھا ان کا وصل مگر
دل ہی قسمت سے کام کا نہ ملا
ان کا غم تو نصیب ہے مجھ کو
عیش کا کیا ملا ملا نہ ملا
کی بہت جستجو مگر ساحرؔ
کوئی بھی درد آشنا نہ ملا
ساحر بھوپالی