ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے

جب خود تڑپ کے وہ مری باہوں میں آ گئے
سب ولولے سمٹ کے نگاہوں میں آ گئے
بڑھتی گئیں زمانے کی جب سرد مہریاں
دل کھنچ کے خود غموں کی پناہوں میں آ گئے
دل پھنک رہا ہے سینے میں دن رات اے خدا
شعلے کہاں سے یہ مری آہوں میں آ گئے
جتنی بھی شکنیں پڑتی گئیں فرق ناز پر
اتنے ہی خم نیاز کی راہوں میں آ گئے
کچھ سوجھتا نہیں ہے مجھے اب سوائے غم
جب سے کہ آپ میری نگاہوں میں آ گئے
ساحرؔ ثواب میں ہو کشش کس لئے کہ جب
سارے مزے سمٹ کے گناہوں میں آ گئے

ساحر بھوپالی