جذبات محبت چھپ نہ سکے گو ضبط سے ہم نے کام لیا
اشک آنکھوں میں اپنے بھر آئے جب تیرا کسی نے نام لیا
اس شدت غم کے ہاتھوں ہم مجبور بھی تھی مایوس بھی تھے
کہنا تھا بہت کچھ کہہ نہ سکے آنکھوں سے زباں کا کام لیا
کچھ عرش بریں تھرا اٹھا اور جن و ملائک کانپ گئے
جب میں نے لرزتے ہاتھوں میں الفت کا چھلکتا جام لیا
خود اپنے کئے پر نادم تھے پھر کس کی شکایت ہم کرتے
اک آنچ نہ ان پر آنے دی سب اپنے ہی سر الزام لیا
کیوں عرض تمنا پر ساحرؔ پھر آج وہ ہنس کر جاتے تھے
توہین محبت سہ نہ سکا اور بڑھ کے دامن تھام لیا
ساحر بھوپالی