خوش و خرم نہ کوئی ذات ملی
غم زدہ ساری کائنات ملی
جی سے جو بھی گزر گیا غم میں
اس کو سچ مچ نئی حیات ملی
جس نے دعویٰ کیا محبت کا
اس کو غم سے نہ پھر نجات ملی
دل کو کیا کیا گمان گزرے ہیں
وہ نظر جب بہ التفات ملی
ان کو افسانۂ محبت میں
قابل رد نہ کوئی بات ملی
سارے شکوے گلے تمام ہوئے
جب گلے موت سے حیات ملی
شکوۂ ہجر کیا کروں ساحرؔ
جیسی قسمت تھی ویسی رات ملی
ساحر بھوپالی