مجھے ملے بھی تو کیوں کر ملے خبر میری
کہ میں وہاں ہوں جہاں خود نہیں گزر میری
سنبھالنا انہیں آپے کا ہو گیا مشکل
پڑی جب ان پہ محبت بھری نظر میری
نظر ملاتے بھی ڈرتا ہوں اس سے اب کہ کہیں
فغان درد نہ ہو جائے بے اثر میری
کسی کے حسن کے جلوؤں میں کھو گیا ہوں میں
خدا کے واسطے لا دے کوئی خبر میری
نہ جانے کب سے سوئے بام تک رہا تھا میں
وہ آئے سامنے کو جھک گئی نظر میری
مزا تو جب ہے کہ نظروں ہی سے سمجھ لیں وہ
کہ عرض شوق میں ذلت ہے سربسر میری
گزر بھی جائے گزرنا ہے جو بھی اے ساحرؔ
کہ آس توڑی ہے ظالم نے جان کر میری
ساحر بھوپالی