نگاہیں تری بے اماں اور بھی ہیں
مرے صبر کے امتحاں اور بھی ہیں
نہ سمجھے کوئی جستجو اپنی کامل
کہ اس بے نشاں کے نشاں اور بھی ہیں
غم آسودگی پر نہ ہو مطمئن دل
حوادث ابھی ناگہاں اور بھی ہیں
نہ ہو بے تکلف تو اس بد گماں سے
ابھی اس کے دل میں گماں اور بھی ہیں
مرا درد ساحرؔ کسی نے نہ جانا
یہ مانا مرے ہمزباں اور بھی ہیں
ساحر بھوپالی