ساحر بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے
وہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے
او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کو
مٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے
ہوس پرست نہیں بندۂ خلوص ہوں میں
جو میرا اپنا ہو میں بھی ہوں بس اسی کے لئے
خدا کی دین ہے وہ جس کو دولت غم دے
کہ فیض عشق نہیں ہے یہ ہر کسی کے لئے
بس اک نگاہ تمنا نواز ہو جائے
ترس گیا ہوں محبت کی زندگی کے لئے
زہے نصیب کہ آئی تو ان کے ہونٹوں پر
تمام عمر میں رویا تھا جس ہنسی کے لئے
یہ اپنا اپنا مقدر ہے اپنا اپنا نصیب
کہ غم کسی کے لئے ہے خوشی کسی کے لئے
کہاں وہ لذت پیہم کہ اب تو ظالم نے
اٹھا رکھی ہیں جفائیں کبھی کبھی کے لئے
رکھا نہ وحشت دل نے کہیں کا اے ساحرؔ
نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے

ساحر بھوپالی