پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج
دنیا مرے سکوں کی لٹی جا رہی ہے آج
ضبط ہوس کی خیر ہو کیوں طبع نا مراد
پھر وضع احتیاط سے گھبرا رہی ہے آج
بندہ نوازیوں کی خلش طبع ناز کو
پھر خدمت نیاز پہ اکسا رہی ہے آج
اللہ رے رعب حسن کہ بزم نشاط میں
ہر شے لب خموش بنی جا رہی ہے آج
اس پیکر شباب کہ نخوت بھری نظر
ہر دعوائے ثبات کو ٹھکرا رہی ہے آج
ساحرؔ نہ جانے کیا ہو اب انجام ضبط شوق
پھر یاد ان کی درد کو تڑپا رہی ہے آج
ساحر بھوپالی