سر کو ہوا ہے پھر وہی سودائے زندگی
گویا ہے تیری یاد مسیحائے زندگی
کیوں دم بدم فزوں ہے تمنائے زندگی
شاید کہ غم ہوا ہے شناسائے زندگی
کرتا پھر ان سے کون تقاضائے زندگی
بس اک نظر میں ہو گیا سودائے زندگی
اب کس لئے ہو مجھ کو تمنائے زندگی
جب تو نہیں تو ہیچ ہے دنیائے زندگی
وہ گردش مدام سے گھبرا نہ جائے کیوں
جس کی امید و بیم میں کٹ جائے زندگی
شہہ پا کے چشم مست کی پینا پڑی مجھے
ہر چند تند و تلخ تھی صہبائے زندگی
وہ تو اڑا کے لے گئی مجھ کو ہوائے شوق
نا قابل عبور تھا صحرائے زندگی
پروانہ کر کے ہمت مردانہ جل بجھے
پھر کیوں نہ ایسی موت سے شرمائے زندگی
بے آس کر کے چھوڑ گئی آرزو تو پھر
راحت فزائے غم ہوئی ایذائے زندگی
دل میں وفور شوق کا طوفاں لئے ہوئے
پی کر چلا ہوں بزم سے صہبائے زندگی
اب بے کسان شوق کی مجبوریاں نہ پوچھ
تھی منحصر امید پہ احیائے زندگی
اے جبر حسن دیکھ مرے بس میں کیا نہیں
دنیا کے غم ہیں آج مہیائے زندگی
ہر شوق پائمال ہے ہر آرزو تباہ
اب کیجے کس امید پہ دعوائے زندگی
ساحرؔ نہ جس کو جور زمانہ مٹا سکا
وہ شرمسار مرگ ہوں رسوائے زندگی
ساحر بھوپالی