صائمہ آفتاب

شاعر

تعارف شاعری

میں سردار عورت ہوں

زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں
سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں
گناہوں میں بہت بھی ہو تو حصہ نصف ہے میرا
سزاؤں کے لیے تنہا مگر حقدار عورت ہوں
یہ بے برکت رفاقت دسترس کی دین ہے پیارے!
تجھے حاصل ہوں اب تیرے لیے بیکار عورت ہوں
میرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی
خدا کے بعد مَیں تخلیق کا کردار عورت ہوں
میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گُر سکھاتی تھی
میرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں۔۔۔

صائمہ آفتاب