دل کی آنکھوں کو میری وا کر دے
مجھ پہ اتنا کرم خدا کر دے
تیری حکمت ھے مجھ میں اوراُن میں
چودہ صدیوں کا فاصلہ کردے
زر ، زمیں اور زن جو حائل ہو
بھائی کو بھائی سے جدا کر دے
تیرا لشکر خَفی ہے دنیا سے
نیل میں راستہ عَصا کر دے
خوف آتا ہے دل دُکھانے سے
دل نہ محشر کہیں بپا کردے
خواب کا خوف دے نبی ع کو مگر
اُس کی تعبیر کربلا کردے
دار منزل رضا اَناالحق کی
گر زباں سے کوئی ادا کردے
سجاد رضا