جھوٹے وعدوں کے نہ سہارے دو
خواب واپس ھمیں ھمارے دو
تم پہ تکیہ کیا تو نکلے تھے
اب بچھڑنے کے نہ اشارے دو
بادلوں نے بھی رات ظُلم کیا
کھو گئے ان میں کل ستارے دو
عمر بھر فاصلہ رہے گا یونہی
کیا ھیں دریا کے ھم کنارے دو
کشتی عمر پہ ھیں بوجھل گر
حق تمہیں ھے ھمیں اُتارےدو
اُس کا ملنا رضا بچھڑ جانا
زندگی بس یہ ہی نظارے دو
سجاد رضا