سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیں

کڑا ہو وقت نظر دور تک نہ آویں ہیں
جو مشکلوں میں پڑیں، تو ہمیں بلُاویں ہیں
ہمیں تو نیند بھی عرصہ ہوا نَہیں آئی
تو خواب کاہے یوں دستک کو آویں جاویں ہیں
تمہاری یاد دُھواں بن کے رقص کرتی ہے
تمہارے خط ہیں جنھیں رات بھر جلاویں ہیں
اُنہیں بھی آنا ھے اک دن ہمارے آنگن میں
ھم اُن کی راہ میں پلکیں نہ یوں بچھاویں ہیں
پڑی ہے عمر نہ سوچو کبھی اگر دیکھو
کہ کیسے جلتا دیا آندھیاں بجھاویں ہیں
کہ چین آتا نہیں ایک پل بھی روز وشب
زمانے بھر کے رضا غم ہمیں ستاویں ہیں

سجاد رضا