کوئی سُنتا نہی ھے بولیں کیا
خودکلامی کو پر ہی تولیں کیا
کس کے دامن پہ لہو کس کاھے
سبکومعلوم ھےتودھو لیں کیا
مانتےکیوں نہی کٹھن تھاسفر
پاؤں کے آبلے بھی بولیں کیا
جانے پھر تم مِلو، مِلو نہ مِلو
تمکوبانہوں میں لےکےرولیں کیا
حق پرستی میں کھڑےتنہاھیں
ھم زمانے کے سنگ ھو لیں کیا
خون کی بوھے حبس کا موسم
اب پرندے پروں کو تولیں کیا
رتجگوں کا حساب دے کہ رضا
آج مُدّت کے بعد سو لیں کیا
سجاد رضا