سجاد رضا

شاعر

تعارف شاعری

کرب چہروں پہ لیے دل میں چھپائے ہوئے خواب

کرب چہروں پہ لیے دل میں چھپائے ہوئے خواب
در بدر کوچہ بہ کوچہ گود اُٹھائے ہوئے خواب
ننھےہاتھوں میں کھلونے کی جگہ ہے کشکول
تم نے دیکھےھیں زمانے کے ستائے ہوئے خواب
زندگی جہد مسلسل تھی جو مہلت دیتی
یاد کر لیتے کبھی ہم بھی بھُلائے ہوئے خواب
لوگ سوتے ھیں تو پھر خواب نگر چلتے ہیں
اور ہمیں دیکھ جو مدت سے جگائے ہوئے خواب
جو حقیقت سے پڑا واسطہ تو بھید کُھلا
تھے سبھی جھوٹ کتابوں میں پڑھائے ہوئے خواب
جس پہ بیتے گی وہی جان سکے گا کہ رضا
تلخ دیکھے ہوئے خوابوں سے دکھائے ہوئے خواب

سجاد رضا