پھر سے میں بچہ ھوجاوں جی کرتا ھے
ریت کے پھر سے محل بناوں جی کرتا ھے
ماں کی گود ہی جادو کا اک بستر تھی
کسی طرح اب اس کو پاوں جی کرتا ھے
کل بابا کا ھاتھ پکڑ کر چلتا تھا
ان ھاتوں کو ھاتھ لگا وں جی کرتا ھے
جن یاروں سے جیت کے اتراتا تھا بہت
ان کو اپنی ھار سناوں جی کرتا ھے
استادوں کی مار کے اندر پیار چھپا تھا
اب میں ان سے کان کچھاوں جی کرتا ھے
آج بھی امی پیسے دیں اور سالگرہ پر
گھر گلیاں دیوار سجاوں جی کرتا ھے
ماں سے اکثر حال چھپایا کرتا تھا
اب میں دل کا حال سناوں جی کرتا ھے
کھول کے سب صندوق رضا میں یادوں کے
خلوت میں اک شہر بساوں جی کرتا ھے
سجاد رضا