رات خاموش تھی تنہائی ھمکلام ھوئی
تمہارا نام لیا گفتگو تمام ھوئی
تمہیں بھلانے کو اک عمر چاہیے ھوگی
یہی سمجھتے ھوئے زندگی کی شام ھوئی
سوال کرنے پہ پابندیاں لگائیں گئیں
آزاد ھوتے ہی اگلی نسل غلام ھوئی
نابینا شہر میں بنیائی میرا جرم ھوئی
زندگی کرب ھوئی کشتِ الام ھوئی
شخص مرجائے گا افکار امر ھونگے رضا
قلم کے سامنے گرتیغ بے نیام ھوئی
سجاد رضا