سلیم کوثر

شاعر

تعارف شاعری

فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے

فریبِ جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
لگا ہواہے جو دربار، ختم ہونے کو ہے​
​کہانی کار نے اپنے لیے لکھا ہے جسے
کہانی میں وہی کِردار ختم ہونے کو ہے​
سمجھ رہے ہوکہ تم سے ہے گرمئ بازار
سو اب یہ گرمئ بازار ختم ہونے کو ہے​
مسیحا، کیسا تجھے لگ رہا ہے، کچھ تو بتا
کہ تیرے سامنے بیمار ختم ہونے کو ہے​
برہنہ ہوتی چلی جا رہی ہے یہ دُنیا
کہیں گلی، کہیں دیوار ختم ہونے کو ہے​
یہ کیا ہوا تجھے تسلیم کرنے والوں میں
سُنا ہے، جراتِ اظہار ختم ہونے کو ہے​
جو مجھ پہ بیت گئی وہ خبر نہیں مِلتی
کہ اب تو سارا ہی اخبار ختم ہونے کو ہے​
اب اس کے بعد نئی زندگی کا ہے آغاز
یہ زندگی تو مرے یار ختم ہونے کو ہے​
سلیم کثرتِ اشیا کی گرد میں آخر
غرُورِ درہم و دینار ختم ہونے کو ہے​

سلیم کوثر