جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھی
اور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ
انہی بے نام گلیوں کے دریچوں میں
چراغ شام جلتا تھا، کہاں ہے وہ
وہ چپ رہنے کا عادی تھا، مگر پہلے
سخن آغاز کرتا تھا، کہاں ہے وہ
اَسے رستہ بدل لینا بھی آتا تھا
مگر وہ ساتھ چلتا تھا، کہاں ہے وہ
سلیم کوثر