آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے
آڑی ترچھی پگڈنڈی پر آوازوں کے سائے
آنے والے دن کا سورج اپنی اور بلائے
بیتے دن کے ہنگاموں پر آنسو کون بہائے
شاید اوس میں بھیگی سڑکیں اپنی آنکھیں کھولیں
شاید دروازوں کے لب پر گیت کوئی لہرائے
شہر کی اجلی دیواروں کا چہرہ ہم بھی دیکھیں
موسم کی پہلی بارش سے گرد اگر چھٹ جائے
زہر کی جھیلوں پر چمکی ہے سچائی کی دھوپ
تیرہ عقائد کی قبروں پر شمعیں کون جلائے
ثروت حسین