ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا
گھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے شہزادہ سوچ رہا ہو گا
دو رویہ گلاب کے پودوں پر رنگوں کی بہار سجی ہوگی
پتھر کی کالی سیڑھیوں پر اک دیا ابھی جلتا ہو گا
مٹی کے منقش پیالوں پر صدیوں کی گرد جمی ہوگی
اڑ جانے والے پرندے کا پنجرا کیسا لگتا ہو گا
اڑتے بالوں کی اوٹ کئے ہاتھوں میں زرد چراغ لئے
اسی ٹھنڈے فرش کے صحرا پر کوئی ننگے پیر چلا ہو گا
خاموش چراگاہوں کے لئے کوئی بادل ایسا گیت لکھوں
انہی دھوپ بھرے میدانوں میں کہیں بھیڑوں کا غلہ ہو گا
ثروت حسین