عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا
اس شہ دیلے سیارے پر میں ہوں اور رسول مرا
کوئی بھی رت ہو میں موجود ہوں ریگستان کے آخر پر
گرم ہواؤں کے جھکڑ میں کھل اٹھتا ہے ببول مرا
تم نے اک شاعر کو لڑکی اتنی دیر اداس رکھا
لوٹا دو اس کے آئینے واپس کر دو پھول مرا
کہاں کہاں کے باشندوں نے میرے گرد ہجوم کیا
پانی کیسی کشش رکھتا ہے دیکھو شوق فضول مرا
باغیچے کے ٹھنڈے فرش پہ ہم دونوں پیوست ہوئے
تیز ابلتی روشنیوں میں سایہ تھا معزول مرا
ثروت حسین