اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے
جس کے ہونٹھ پہ تل ہے ثروتؔ آنکھوں میں جادو رہتا ہے
پھر وہ لڑکا ان آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب گیا تھا
بیس برس کی حیرانی میں کب دل پر قابو رہتا ہے
اس کے ہجر میں مر سکتا ہوں اس کو قتل بھی کر سکتا ہوں
میری ہر چاہت میں شامل نفرت کا پہلو رہتا ہے
باغ سے باہر ریگستان اور گرم ہواؤں کے لشکر ہیں
باغ کی دیواروں کے اندر موسم ابر و سبو رہتا ہے
وہ بھی دن تھے اس کی خاطر جمع کئے تھے پھول اور آنسو
اب تو ان ہاتھوں میں ثروتؔ کھلا ہوا چاقو رہتا ہے
ثروت حسین