ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے
بار ستم اٹھا سکے نظم جہاں بدل سکے
تیرہ و تار ہے زمیں پاس مرے کوئی نہیں
میں اسی فکر میں غمیں میرا چراغ جل سکے
کارگہ وجود میں ابر و ہوائے پیش و پس
میری یہی دعا کہ بس آدمی پھول پھل سکے
عشق کا نام چاہئے حسن کلام چاہئے
ایسا کوئی سخن نہیں شعر میں جو نہ ڈھل سکے
زندگی کی رمق ملے ایک نیا افق ملے
ساتھیو گرد و پیش کی برف اگر پگھل سکے
ثروت حسین