بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر
اس نے اپنے ہونٹھ جو رکھے میرے بالوں بھرے سینے پر
پھر یہ پرند نہیں چہکیں گے پھر یہ پھول نہیں مہکیں گے
مٹی کی موسیقی سن لو میرے دل کے سازینے پر
انگوروں کا رس تو میں نے اس سے پہلے بھی چکھا تھا
اور ہی آگ دہک اٹھی ہے تیرے ہونٹھوں سے پینے پر
میرے گھوڑے کی ٹاپوں سے گونج رہے ہیں معبد و مقتل
لیکن وہ خاموش کھڑی ہے پتھر کے اونچے زینے پر
ثروت حسین