گھوڑے تیری آنکھوں میں
دو جلتے انگارے ہیں
رنگوں کے فوارے ہیں
فوارے کے چھینٹوں سے
کل عالم گلزاری ہے
گاڑی تجھ پر بھاری ہے
جنگل تیرے سپنے میں
لذت ایک تڑپنے میں
تیرے نعل کی چنگاری
مجھ کو پھول سے ہے پیاری
گھوڑے تیری زنجیریں
مٹی کا سینہ چیریں
مٹی اندر پانی ہے
سب کی ایک کہانی ہے
ثروت حسین