ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

ہاتھ ہمارے بھی شامل تھے پربت کاٹنے والوں میں

ہاتھ ہمارے بھی شامل تھے پربت کاٹنے والوں میں
دیکھو ہم نے راہ بنائی بے ترتیب سوالوں میں
رات اور دن کے الجھاؤ میں کون ہے وہ آہستہ خرام
جس کے رنگ ہیں دیواروں پر جس کی گونج خیالوں میں
دروازوں میں لوگ کھڑے تھے اور ہماری آنکھوں نے
پانی کا چہرہ دیکھا تھا مٹی کی تمثالوں میں
کنج خزاں آثار میں ثروتؔ آج یہ کس کی یاد آئی
ایک شعاع سبز اچانک طیر گئی پاتالوں میں

ثروت حسین